17 مارچ 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے مارچ برائے بیت المقدس کے شرکاء سے ملاقات میں کہا ہے کہ صہیونیوں نے فلسطین میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی ہیں۔

ابنا: اطلاعات کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ صہیونیوں نے انسانی حقوق کو پس پشت ڈال رکھا ہے اس کے باوجود عالمی استکبار ہر سال اسرائیل کی ریاست کو بچانے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کو سرزمین فلسطین پر ہی کیوں مسلط کیا گیا، اس کے لیے ایشیا اور افریقہ میں بھی زمین تلاش کی جا سکتی تھی لیکن فلسطین کی اہمیت کئی حوالوں سے اہم ہے فلسطین انبیاء کی سرزمین ہے، فلسطین دنیا کا دل اور مرکز ہے، ایک تاریخی ورثہ ہے فلسطین پر قابض ہونا تمام دنیا پر قبضے کے مترادف ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ فلسطین ایک انسانی مسئلہ ہے اور اسرائیل کا قیام انسانیت کی تضحیک ہے جس کے خلاف تمام حریت پسندوں کو قیام کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے دنیا میں بیداری کا عمل جاری ہے۔ اسرائیل کے مظالم سے صہیونیت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے واضح ہو چکا ہے اور اب دنیا ان طاغوتی طاقتوں سے شدید نفرت کرتی ہے۔

ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے مارچ برائے آزادی بیت المقدس کے بارے میں کہا کہ دنیا کہہ سکتی ہے کہ یہ چند ہزار لوگ بیت المقدس کو کس طرح آزاد کرا سکیں گے لیکن اگر ہم تاریخ کا مشاہدہ کریں تو معلوم ہو گا کہ اللہ کے پیغمبر تن تنہا اپنی ثابت قدمی کے ساتھ لاکھوں لوگوں کو تبدیل کر دیتے تھے۔ انہوں نے اس مارچ کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی یہ تحریک اور کاروان گھٹا ٹوپ اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن ہے۔ یہ روشنی دنیا کی تمام قوموں کو صحیح راستہ دکھائے گي۔ یہ روشنی انسانوں کو حریت کا درس دے گي۔ اگر ہم تیار اور آمادہ ہیں تو القدس کی آزادی دور نہیں ہے۔......

/169